-کراچی یونیورسٹی میں دوستوں کی محفلوں کے رنگ ہی نرالے تھے۔ اس دوران جنم لینے والی کئی چیزیں عملی زندگی میں داخل ہونے کے بعد بھی نہ صرف ساتھ رہتی ہیں بلکہ وقفہ وقفہ سے اپنا احساس بھی دلاتی رہتی ہیں۔ کچھ دوست کوئی دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے زبان وبیان یا تلفظ کی غلطی کرجاتے جسے پکڑ کر دیر تک قصہ گوکا ’’ریکارڈ‘‘ لگتا تھا۔ اس طرح کی غلطیاں اگرچہ سب ہی کرتے تھے مگر کچھ دوست ایسے تھے جو غلطی کیے بغیر اپنی بات مکمل نہیں کرسکتے تھے۔ جامعہ کراچی میں مجید کے ہوٹل پر بیٹھے ہوئے ایک دوست نے جب ایک جملے میں تین غلطیاں کیں تو فاروق حیدر کو شرارت سوجھی اور اس نے کاغذ قلم لے کر گزشتہ چند روز میں کی جانے والی غلطیوں کی فہرست بنا لی۔ فاروق نے باآواز بلند یہ غلطیاں سب کو سنائیں اور کہا کہ آئندہ ایسی غلطیوں کو ’’ٹوٹا‘‘ کہا جائے گا اور گروپ کا نام ’’ٹوٹا لورز‘‘ ہوگا جبکہ ٹوٹا دینے والے ہر فرد کو گروپ کی رکنیت دے دی جائے گی۔ یہ ٹوٹے اس طرح کے ہوتے تھے۔
ساحل سمندر کے کنارے، تحریری طور پر لکھ کر دے دو، تفصیل سے بریفلی سمجھائو، دوبارہ REPEAT کرو وغیرہ۔
اس واقعہ کے چند دن بعد پھر فاروق کو شرارت سوجھی اور اس نے کہا کہ بابائے ٹوٹا نامزد ہونا چاہیے اور یہ اعزاز اسے دینا چاہیے جو سب سے زیادہ ٹوٹے دیتا ہو۔ اس مرحلہ پر دو دوستوں کا نام زیر غور رہا پھر بابائے ٹوٹا کا لقب ایک دوست کے نام کردیا گیا۔ نام اس لیے نہیں لکھ رہا کہ میں بھی اس گروپ کا رکن ہوں اور مجھے اس مضمون کے بعد بھی گروپ کے اراکین میں جانا ہے وہاں میرا کیا حال ہوسکتا ہے… طے کیا گیا کہ ٹوٹا لورز کے تحت ہونے والے ہر کام کی اجازت بابائے ٹوٹا سے لی جائے گی۔ اگرچہ روزگار کے حصول کے لیے ٹوٹا لورز کے کئی اراکین ملک سے باہر جاچکے ہیں مگر آج بھی یہ عمل جاری ہے اور اس گروپ کا کوئی رکن کسی دوسرے رکن کے سامنے ٹوٹا دے دے تو وہ فوراً ایس ایم ایس کے ذریعے گروپ کے تمام اراکین تک پہنچ جاتا ہے۔ یونیورسٹی میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ غلطیاں ہم طالب علم ہی کرتے ہیں مگر صحافت میں آنے کے بعد جو ٹوٹے ہم کو ملے انہیں سن کر ہمیں اپنے ٹوٹوں پر شرمندگی ہونے لگی اور سونے پر سہاگہ کہ ٹوٹے دینے والے افراد طالب علم نہیں بلکہ صحافت کے ’’استاد‘‘ ہیں۔ ان تمام اساتذہ سے معذرت کے ساتھ ان کے چند ٹوٹے یہاں تحریر کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔
سب سے پہلے جن صاحب کا تذکرہ کیا جارہا ہے وہ تو ہمارے بابائے ٹوٹا سے یہ لقب بھی چھیننے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ کامران خان صاحب نے بہت اچھے ٹوٹے دیے۔ ان کے پروگرام میں کم کم ہی دیکھ پاتا ہوں۔ میرا معدہ ایک گھنٹہ کے پروگرام میں ہزاروں اعلیٰ نسل کے ٹوٹے ہضم نہیں کرسکتا۔ چند ٹوٹے آپ بھی پڑھیے۔
’’یوم پاکستان کے دن سڑکوں پر بہت رش رہا، یوم سوگ والے دن گاڑیاں جلائی گئیں۔ سخت ہڑتال نظر آئی۔ شہر پر جلائو گھیرائو کا قبضہ تھا۔ کان پر نم ہوگئے تھے اور اس کی آواز سننے سے قاصر تھے۔‘‘ ایک رپورٹر سے کامران خان کی جانب سے پوچھا گیا ’’ایک‘‘ سوال اور رپورٹر کا جواب بھی حاضر ہے۔ سوال: یہ بتایئے کہ آج شہر میں کتنے لوگوں کو جان سے مار کر قتل کیا گیا اور شہر قائد کے کتنے گھر اجڑے ہیں۔ کتنی عورتوں کو بیوہ کرکے ان کے سہاگ اجاڑ دیے گئے۔ ان دہشت گردوں نے کتنے شہریوں کے خون سے شہر قائد کی سڑکوں کو رنگین کیا۔ جواب ملا: ’’27‘‘.
اسی طرح کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والے سیمی فائنل سے قبل کامران خان نے ایک طویل پروگرام کیا اور اختتام پر تاریخی جملے کہے ’’ناظرین ماہرین سے رائے لینے کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ جو ٹیم سیمی فائنل جیتے گی وہی فائنل کھیلے گی۔‘‘ طویل پروگرام کا یہ نتیجہ سن کر میرا دل چاہا اپنا سر دیوار پر مار دوں۔
اب بتائیں ہمارے بابائے ٹوٹا کو اپنا لقب جاتا ہوا محسوس ہوگا یا نہیں۔ یہیں پر بس نہیں۔ ایک معروف پروگرام کے اینکر جناب حامد میر صاحب بھی کبھی کبھی ٹوٹا دے دیتے ہیں۔ ملاحظہ کریں۔ Saturday والے دن کی بات ہے۔ اس نے بلیک پینٹ اور بلو جینز پہنی ہوئی تھی۔ پولیس آنسو گیس فائرنگ کررہی تھی۔ مگر حامد میر صاحب سے ٹوٹے کم ہی سننے کو ملتے ہیں۔
دوسری جانب وہ دو اینکرز ہیں جنہیں ان کے انداز ’’اینکری‘‘ کی وجہ سے عوام بہن بھائی سمجھتے ہیں۔ جی ہاں آپ ٹھیک سمجھے۔ ڈاکٹر دانش صاحب اور جاسمین صاحبہ۔ ان کے ٹوٹے بھی پڑھ لیں۔ ’’یہ کراچی کا وہ شہر ہے جہاں زیادہ رش ہوتا ہے۔ حج کے لیے جانے والے مظاہرین کو مشکلات۔ طیارہ فضا میں پرواز کرگیا (زمین یا پانی پر تو پرواز ہو نہیں سکتی)۔ تمام ڈاکومنٹس اور دستاویزات حاصل کرلی ہیں۔ حیرت کی بات ہے کار کی ٹینکی میں دو سو روپے کا پیٹرول ڈلوایا (پیٹرول شاید ٹینکی میں ہی ڈلوایا جاتا ہے)۔
اسی طرح خواتین اینکر عاصمہ شیرازی اور عاصمہ چوہدری بھی وقفہ وقفہ سے ٹوٹے دیتی رہتی ہیں۔ عید کے مواقع پر نشر ہونے والے ایک پروگرام میں عاصمہ چوہدری صاحبہ نے کہا ’’مجھے گول گول چوڑیاں بہت پسند ہیں‘‘ (چوکور یا تکونی چوڑیاں بھی ہوتی ہیں کیا)۔ اسی پروگرام میں کہا گیا کہ ’’یہ میری فیورٹ پسند ہے‘‘ (عوام، میرا بیچاری کو خوامخواہ مذاق کا نشانہ بناتے ہیں)۔ ’’مغرب عروج کا شکار ہے۔‘‘
ٹی وی چینلز کے رپورٹر حضرات بھی ٹوٹے دینے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ ایک ٹوٹا زبان زد عام ہے ’’بم دھماکے سے پھٹ گیا۔‘‘ میرا خیال ہے کہ بغیر دھماکے کے کم ازکم بم تو نہیں پھٹتا۔ کئی رپورٹر تو بہت قابل ہیں۔ یقین نہ آئے تو “youtube” پر چاند نواب لکھ کر دیکھ لیں۔ اس ویڈیو کو بھارت میں صحافیوں کی تربیت کے دوران دکھایا جاتا ہے اور ہاں ایک سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم مسلسل ’’ذمہ دار‘‘ کہتے ہیں۔ مگر وزیراعظم بھی تو یہی کہتے ہیں۔
آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ ابھی اس کالم میں پتا نہیں کتنے ٹوٹے نکلیں گے۔ میرا ایک ٹوٹا ایڈیٹر صاحب ہمیشہ پکڑتے ہیں مگر میں اس ٹوٹے کو ختم نہیں کرسکا اور وہ ہے ’’ذ‘‘ اور ’’ز‘‘ کا فرق۔ اس فرق کی وجہ سے کتنے اعلیٰ قسم کے ٹوٹے وجود میں آتے ہیں یہ پھر کبھی بتائوں گا۔ کوشش ہوگی کہ ہر ہفتہ ملک کی ’’اعلیٰ شخصیات‘‘ کی جانب سے دیے جانے والے ٹوٹوں کو ٹاٹو لورز کے نام سے باقاعدگی سے شائع کیا جائے جو شاید قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہو۔ آخر میں ہمارے بابائے ٹوٹا کی جانب سے ترمیم کے بعد گروپ کے نام کیا گیا ایک شعر (جس پر مجھے تو یقین ہوچکا ہے)
یہ بازی ٹوٹا بازی ہے یہ بازی تم ہی ہارو گے
ہر منہ سے ٹوٹا نکلے گا تم کتنے ٹوٹے پکڑو گے
اور ہاں عوام تو جانے کب سے مونث واحد ہوگئے یعنی ’’بے چاری عوام‘‘۔ ہم نے تو عوام کو جمع مذکر ہی پڑھا۔ مگر اچانک جنس تبدیل ہوگئی۔ بے چارے عوام۔
یہ کالم روزنامہ جسارت میں شائع ہوا۔ اخبار میں شائع کالم دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔
http://www.jasarat.com/unicode/detail.php?category=8&coluid=4779









